March 25, 2019

فہرست مضامین > قران كي حكايات >حضرت عيسى اور مريم عليهما السلام كا قصه

حضرت عيسى اور مريم عليهما السلام كا قصه

پارہ
سورۃ
آیت
X
1
2 البقرة
87

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ

تشریح

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کی، پھر یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس کوئی ایسی بات لے کر آیا جو تمہاری نفسانی خواہشات کو پسندنہیں تھی تو تم اکڑ گئے؟ چنانچہ بعض (انبیاء) کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کرتے رہے

1
2 البقرة
136

قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ

تشریح

(مسلمانو !) کہہ دو کہ : ’’ ہم اﷲ پر ایمان لائے ہیں، اور اس کلام پر بھی جو ہم پر اتارا گیااور اس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا، اور اس پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم ان پیغمبروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی (ایک خدا) کے تابع فرمان ہیں ۔ ‘‘

3
3 آل عمران
35-37

 إِذْ قَالَتِ امْرَأَةُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

تشریح

(چنانچہ اﷲ کے دعا سننے کا وہ واقعہ یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا تھا کہ : ’’ یا رب! میں نے نذر مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے ہر کام سے آزاد کر کے تیرے لئے وقف رکھوں گی ۔ میری اس نذر کو قبول فرما ۔ بیشک تو سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ ‘‘

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأُنثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وِإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ 

تشریح

پھر جب ان سے لڑکی پیدا ہوئی تو وہ (حسرت سے) کہنے لگیں : ’’یا رب ! یہ تو مجھ سے لڑکی پید ا ہوگئی ہے ۔ ‘‘ حالانکہ اﷲ کو خوب علم تھا کہ ان کے یہاں کیا پید اہوا ہے ۔ ’’ اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہوتا ۔ میں نے ا س کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطانِ مردود سے حفاظت کیلئے آپ کی پنا ہ میں دیتی ہوں ۔ ‘‘

 فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقاً قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ إنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاء بِغَيْرِ حِسَابٍ 

تشریح

چنانچہ اس کے رب نے اس (مریم) کو بطریقِ احسن قبول کیا اور اسے بہترین طریقے سے پروان چڑھایا ۔ اور زکریا اس کے سرپرست بنے ۔ جب بھی زکریا ان کے پاس ان کی عبادت گاہ میں جاتے، ان کے پاس کوئی رزق پاتے ۔ انہوں نے پوچھا : ’’مریم ! تمہارے پاس یہ چیزیں کہاں سے آئیں ؟‘‘ وہ بولیں : ’’ اﷲ کے پاس سے ! اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔‘‘

3
3 آل عمران
42-59

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ 

تشریح

اور (اب اس وقت کا تذکرہ سنو) جب فرشتوں نے کہا تھا کہ : ’’ اے مریم ! بیشک اﷲ نے تمہیں چن لیا ہے، تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور دنیا جہان کی ساری عورتوں میں تمہیں منتخب کر کے فضیلت بخشی ہے

يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ

تشریح

اے مریم !تم اپنے رب کی عبادت میں لگی رہو، اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کرو۔ ‘‘

ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلاَمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ 

تشریح

(اے پیغمبر !) یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہیں دے رہے ہیں ۔ تم اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کیلئے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا، اور نہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ (اس مسئلے میں ) ایک دوسرے سے اختلاف کر رہے تھے

 إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ 

تشریح

(وہ وقت بھی یاد کرو) جب فرشتوں نے مریم سے کہا تھا کہ : ’’ اے مریم ! اﷲ تعالیٰ تمہیں اپنے ایک کلمے کی (پیدائش کی) خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، جو دنیا اور آخرت دونوں میں صاحبِ وجاہت ہوگا، اور (اﷲ کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَ

تشریح

اور وہ گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرے گا اور بڑی عمر میں بھی، اور راست باز لوگوں میں سے ہوگا۔‘‘

قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاء إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ 

تشریح

مریم نے کہا : ’’ پروردگار ! مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہوجائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ؟ ‘‘ اﷲ نے فرمایا: ’’ اﷲ اسی طرح جس کو چاہتاہے پیدا کرتاہے ۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ ’’ ہو جا ‘‘ بس وہ ہو جاتا ہے

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ 

تشریح

اور وہی (اﷲ) اس کو (یعنی عیسیٰ ابن مریم کو) کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا

وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْــــَٔــةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙفِيْ بُيُوْتِكُمْ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 

تشریح

اور اسے بنی اسرائیل کے پاس رسول بنا کر بھیجے گا (جو لوگوں سے یہ کہے گا) کہ : ’’ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، (اور وہ نشانی یہ ہے) کہ میں تمہارے سامنے گارے سے پرندے جیسی ایک شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں، تو وہ اﷲ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے، اور میں اﷲکے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دیتا ہوں، اور مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں، او ر تم لوگ جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے یا ذخیرہ کرکے رکھتے ہو ں میں وہ سب بتادیتا ہوں ۔اگر تم ایمان لانے والے ہو تو ان تمام باتوں میں تمہارے لئے (کافی) نشانی ہے

 وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ 

تشریح

اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں ) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کر دوں ۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا اﷲسے ڈرو اور میرا کہنا مانو

 إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ 

تشریح

بیشک اﷲمیرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ۔ یہی سیدھا راستہ ہے (کہ صرف اسی کی عبادت کرو) ‘‘

 فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ 

تشریح

پھر جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں تو انہوں نے (اپنے پیرووں سے) کہا : ’’ کون کون لوگ ہیں جو اﷲ کی راہ میں میرے مددگار ہوں ؟ ‘‘ حواریوں نے کہا : ’’ ہم اﷲ (کے دین) کے مددگار ہیں، ہم اﷲ پر ایمان لاچکے ہیں، اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں

رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلَتْ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ 

تشریح

اے ہمارے رب ! آپ نے جوکچھ نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول کی اتباع کی ہے، لہٰذا ہمیں ان لوگوں میں لکھ لیجئے جو (حق کی) گواہی دینے والے ہیں ۔‘‘

وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

تشریح

اور ان کافروں نے (عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف) خفیہ تدبیر کی، اور اﷲ نے بھی خفیہ تدبیر کی ۔ اور اﷲ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے

 إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ 

تشریح

(اس کی تدبیر اس وقت سامنے آئی) جب اﷲ نے کہا تھا کہ : ’’ اے عیسیٰ میں تمہیں صحیح سالم واپس لے لوں گا، اورتمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان (کی ایذا) سے تمہیں پاک کر دوں گا ۔ اور جن لوگوں نے تمہاری اتباع کی ہے، ان کو قیامت کے دن تک ان لوگوں پر غالب رکھوں گا جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے ۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے

 فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ 

تشریح

چنانچہ جو لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا، اور ان کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے

وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَاللَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ 

تشریح

البتہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان کو اﷲ ان کا پوراپورا ثواب دے گا، اور اﷲ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ 

تشریح

(اے پیغمبر !) یہ وہ آیتیں اور حکمت بھرا ذکر ہے جو ہم تمہیں پڑھ کر سنا رہے ہیں

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ

تشریح

اﷲ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے ؛ اﷲ نے انہیں مٹی سے پیداکیا، پھر ان سے کہا : ’’ہوجا ‘‘ بس وہ ہوگئے

6
4 النساء
171

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِي دِينِكُمْ وَلاَ تَقُولُواْ عَلَى اللَّهِ إِلاَّ الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ فَآمِنُواْ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلاَ تَقُولُواْ ثَلاَثَةٌ انتَهُواْ خَيْرًا لَّكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَات وَمَا فِي الأَرْضِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلاً 

تشریح

اے اہلِ کتاب ! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اﷲ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو محض اﷲ کے رسول تھے، اور اﷲ کا ایک کلمہ تھا جو اس نے مریم تک پہنچا یا، اور ایک روح تھی جو اسی کی طرف سے (پیدا ہوئی) تھی، لہٰذا اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور یہ مت کہو کہ (خدا) تین ہیں ۔ اس بات سے با ز آجاؤ، کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اﷲ تو ایک ہی معبود ہے، وہ اس بات سے بالکل پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور سب کی دیکھ بھال کیلئے اﷲ کافی ہے

6
5 المائدة
46

وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِم بِعَيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ

تشریح

اور ہم نے ان (پیغمبر وں) کے بعد عیسیٰ ابنِ مریم کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو اِنجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا، اور جو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی اور متقیوں کیلئے سراپا ہدایت و نصیحت بن کر آئی تھی

6
5 المائدة
72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُواْ اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ 

تشریح

وہ لوگ یقینا کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ’’ اﷲ مسیح ابنِ مریم ہی ہے ‘‘ حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ ’’ اے بنی اسرائیل ! اﷲ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یقین جانو کہ جو شخص اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، اﷲ نے اس کیلئے جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جو لوگ (یہ) ظلم کرتے ہیں ، ان کو کسی قسم کے یارومددگار میسر نہیں آئیں گے۔‘‘

6
5 المائدة
75

مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ 

تشریح

مسیح ابنِ مریم تو ایک رسول تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں ، ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گذر چکے ہیں ، اور ان کی ماں صدیقہ تھیں ۔ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو! ہم ان کے سامنے کس طرح کھول کھول کر نشانیاں واضح کر رہے ہیں ! پھر یہ بھی دیکھو کہ ان کو اوندھے منہ کہاں لے جایا جا رہا ہے !

6
5 المائدة
78

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ 

تشریح

بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابنِ مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گذر جایا کرتے تھے

6
5 المائدة
110-118

إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِىءُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ 

تشریح

 (یہ واقعہ اس دن ہوگا) جب اﷲ کہے گا : ’’ اے عیسیٰ ابنِ مریم ! میرا انعام یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا، جب میں نے روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد کی تھی۔ تم لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرتے تھے، اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات واِنجیل کی تعلیم دی تھی، اور جب تم میرے حکم سے گارا لے کر اس سے پرندے کی جیسی شکل بناتے تھے، پھر اس میں پھونک مارتے تھے تووہ میرے حکم سے (سچ مچ کا) پرندہ بن جاتا تھا، اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے، اورجب تم میرے حکم سے مُردوں کو (زندہ) نکال کھڑا کرتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو اُس وقت تم سے دور رکھا جب تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے، اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ۔ ‘‘

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ 

تشریح

جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ : ’’ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ۔ ‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ ہم ایمان لے آئے، اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں ۔ ‘‘

إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاء قَالَ اتَّقُواْ اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ 

تشریح

 (اور ان کے اس واقعے کا بھی ذکر سنو) جب حواریوں نے کہا تھا کہ ـ: ’’ اے عیسیٰ ابنِ مریم ! کیا آپ کا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے) ایک خوان اُتارے ؟ ‘‘ عیسیٰ نے کہا : ’’ اﷲ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ ‘‘

قَالُواْ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ 

تشریح

انہوں نے کہا : ’’ ہم چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں ، اور اس کے ذریعے ہمارے دل پوری طرح مطمئن ہوجائیں ، اور ہمیں (پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ) یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے ہم سے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے، اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں شامل ہوجائیں ۔ ‘‘

قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاء تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ 

تشریح

 (چنانچہ) عیسیٰ ابنِ مریم نے درخواست کی کہ : ’’ یا اﷲ ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار دیجئے جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کیلئے ایک خوشی کا موقع بن جائے، اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہو۔ اور ہمیں یہ نعمت عطا فرما ہی دیجئے، اور آپ سب سے بہتر عطا فرمانے والے ہیں۔ ‘‘

قَالَ اللَّهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لاَّ أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ 

تشریح

اﷲ نے کہا کہ : ’’میں بیشک تم پر وہ خوان اُتاردُوں گا، لیکن اس کے بعد تم میں سے جو شخص بھی کفر کرے گا اس کو میں ایسی سزا دوں گا جو دُنیا جہان کے کسی بھی شخص کو نہیں دوں گا۔ ‘‘

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ

تشریح

اور (اُس وقت کا بھی ذکر سنو) جب اﷲ کہے گا کہ : ’’ اے عیسیٰ ابنِ مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اﷲ کے علاوہ دو معبود بناؤ ؟ ‘‘ وہ کہیں گے : ’’ ہم تو آپ کی ذات کو (شرک سے) پاک سمجھتے ہیں ۔ میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا توآپ کو یقینا معلوم ہوجاتا۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہیں ، اور میں آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔ یقینا آپ کو تما م چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

تشریح

میں نے اِن لوگوں سے اُس کے سوا کوئی بات نہیں کہی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا، اور وہ یہ کہ : ’’ اﷲ کی عبادت کرو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور میرا بھی پروردگار۔ ‘‘ اور جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، میں ان کے حالات سے واقف رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اُٹھا لیا تو آپ خود ان کے نگراں تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

تشریح

اگر آپ ان کو سزا دیں ، تو یہ آپ کے بندے ہیں ہی، اور اگر آپ انہیں معاف فرمادیں تو یقینا آپ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔ ‘‘

6
6 الأنعام
85-90

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ 

تشریح

اور زکریا، یحیٰ، عیسیٰ اور اِلیاس کو (بھی ہدایت عطا فرمائی) ۔ یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ 

تشریح

نیز اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو ہم نے دنیا جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی

وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 

تشریح

اور ان کے باپ دادوں ، ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو۔ ہم نے اِن سب کو منتخب کر کے راہِ راست تک پہنچا دیا تھا

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ 

تشریح

یہ اﷲ کی دی ہوئی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے راہِ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرنے لگتے تو ان کے سارے (نیک) اعمال اکارت ہو جاتے

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلاء فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُواْ بِهَا بِكَافِرِينَ 

تشریح

وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کیلئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ

تشریح

یہ لوگ (جن کا ذکر اُوپر ہوا) وہ تھے جن کو اﷲ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہٰذا (اے پیغمبر !) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اِس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دُنیا جہان کے سب لوگوں کیلئے ایک نصیحت ہے اور بس

10
9 التوبة
30

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتْ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ 

تشریح

یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اﷲ کے بیٹے ہیں ، اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ یہ سب اُن کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں ۔ یہ اُن لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں ۔ اﷲ کی مار ہو اِن پر ! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں ؟

16
19 مريم
16-31

وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ ۘاِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا

تشریح

اور اس کتاب میں مریم کا بھی تذکرہ کرو۔ اُس وقت کا تذکرہ جب وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر اُس جگہ چلی گئیں جو مشرق کی طرف واقع تھا

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا ڨاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا 

تشریح

پھر انہوں نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان ایک پردہ ڈال لیا۔ اس موقع پر ہم نے ان کے پاس اپنی رُوح (یعنی ایک فرشتے) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا

قَالَتْ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا

تشریح

مریم نے کہا : ’’ میں تم سے خدائے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں ۔ اگر تم میں خدا کا خوف ہے (تو یہاں سے ہٹ جاؤ)

قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا 

تشریح

فرشتے نے کہا : ’’ میں تو تمہارے رَبّ کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں ، (اور اس لئے آیا ہوں ) تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں ۔‘‘

قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَكُ بَغِيًّا

تشریح

مریم نے کہا : ’’ میرے لڑکا کیسے ہوجائے گا، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے، اور نہ میں بدکار عورت ہوں؟‘‘

قَالَ كَذٰلِكِ ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ۚ وَلِنَجْعَلَهُ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا

تشریح

فرشتے نے کہا : ’’ ایسے ہی ہو جائے گا۔ تمہارے رَبّ نے فرمایا ہے کہ : ’’ یہ میرے لئے ایک معمولی بات ہے۔ اور ہم یہ کام اس لئے کریں گے تاکہ اُس لڑکے کو لوگوں کیلئے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنائیں ، اور اپنی طرف سے رحمت کا مظاہرہ کریں ۔ اور یہ بات پوری طرح طے ہو چکی ہے۔‘‘

فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا 

تشریح

پھر ہوا یہ کہ مریم کو اُس بچے کا حمل ٹھہر گیا، (اور جب ولادت کا وقت قریب آیا) تو وہ اس کو لے کر لوگوں سے الگ ایک دُور مقام پر چلی گئیں

فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا

تشریح

پھر زچگی کے درد نے انہیں ایک کھجور کے درخت کے پاس پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگیں : ’’ کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی، اور مر کر بھولی بسری ہو جاتی !‘‘

فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلاَّ تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا 

تشریح

پھر فرشتے نے ان کے نیچے ایک جگہ سے اُنہیں آواز دی کہ : ’’ غم نہ کرو، تمہارے رَبّ نے تمہارے نیچے ایک چشمہ پید ا کر دیا ہے

وَهُزِّيْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا

تشریح

اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، اُس میں سے پکی ہوئی تازہ کھجوریں تم پر جھڑیں گی

فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّيْ عَيْنًا ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوْلِيْٓ اِنِّىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِـيًّا

تشریح

اب کھاؤ، اور پیؤ، اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : ’’ آج میں نے خدائے رحمٰن کیلئے ایک روزے کی منّت مانی ہے، اس لئے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔‘‘

فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا 

تشریح

پھر وہ اُس بچے کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ۔ وہ کہنے لگے کہ : ’’ مریم ! تم نے تو بڑا غضب ڈھادیا

يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا 

تشریح

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تمہارا باپ کوئی بُرا آدمی تھا، نہ تمہاری ماں کوئی بدکار عورت تھی !‘‘

فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ ۭ قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا

تشریح

اس پر مریم نے اُس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا : ’’ بھلا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی پالنے میں پڑا ہوا بچہ ہے؟‘‘

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا 

تشریح

(اس پر) بچہ بول اُٹھا کہ : ’’ میں اﷲ کا بندہ ہوں ۔ اُس نے مجھے کتاب دی ہے، اور نبی بنایا ہے

وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا 

تشریح

اور جہاں بھی میں رہوں ، مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں ، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے

17
21 الأنبياء
91

وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَآ اٰيَةً لِّـلْعٰلَمِيْنَ

تشریح

اور اُس خاتون کو دیکھو جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اُ س کے اندر اپنی رُوح پھونکی، اور اُنہیں اور اُن کے بیٹے کو دُنیا جہان کے لوگوں کیلئے ایک نشانی بنادیا

18
23 المؤمنون
50

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهُ اٰيَةً وَّاٰوَيْنٰهُمَآ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ

تشریح

اور مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) کو اور اُن کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا، اور ان دونوں کوا یک ایسی بلندی پر پناہ دی جو ایک پر سکون جگہ تھی، اور جہاں صاف ستھرا پانی بہتاتھا

25
43 الزخرف
59-61

إِنْ هُوَ إِلاَّ عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلاً لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ

تشریح

وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) تو بس ہمارے ایک بندے تھے جن پر ہم نے انعام کیا تھا، اور بنی اسرائیل کیلئے اُن کو ایک نمونہ بنا یا تھا

وَلَوْ نَشَاء لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلائِكَةً فِي الأَرْضِ يَخْلُفُونَ

تشریح

اور اگرہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں ایک دوسرے کے جانشین بن کر رہا کریں

وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ

تشریح

اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی ایک نشانی ہیں ، اس لئے تم اس میں شک نہ کر و، اور میری بات مانو۔ یہی سیدھا راستہ ہے

27
57 الحديد
27

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ ڏ وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ۭ وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا ۚ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ ۚ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ

تشریح

پھر ہم نے اُن کے پیچھے اُنہی کے نقشِ قدم پر اپنے اور پیغمبر بھیجے، اور اُن کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا، اور اُنہیں اِنجیل عطا کی، اور جن لوگوں نے اُن کی پیروی کی، اُن کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحم دِلی پیدا کر دی۔ اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے، وہ انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے اُس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا، لیکن انہوں نے اﷲ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہی، پھر اُس کی ویسی رعایت نہ کر سکے جیسے اُس کا حق تھا۔ غرض اُن میں سے جو اِیمان لائے تھے، اُن کو ہم نے اُن کا اَجر دیا، اور ان میں سے بہت لوگ نافرمان ہی رہے

28
61 الصف
6

وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ ۭ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ

تشریح

اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا کہ : ’’ اے بنو اِسرائیل ! میں تمہارے پاس اﷲ کا ایسا پیغمبر بن کر آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی، میں اُس کی تصدیق کرنے والا ہوں ، اور اُس رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔‘‘ پھر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ : ’’ یہ تو کھلا ہو ا جادو ہے۔‘‘

28
61 الصف
14

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُونوا أَنصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ فَآَمَنَت طَّائِفَةٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَت طَّائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آَمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ

تشریح

اے ایمان والو ! تم اﷲ (کے دین) کے مددگار بن جاؤ، اسی طرح جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں سے کہا تھا کہ : ’’ وہ کون ہیں جو اﷲ کے واسطے میرے مددگار بنیں؟‘‘ حواریوں نے کہا : ’’ ہم اﷲ کے (دین کے) مددگار ہیں ۔‘‘ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا، اور ایک گروہ نے کفر اِختیار کیا۔ چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے، ہم نے اُن کے دُشمنوں کے خلاف ان کی مدد کی، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غالب آئے

28
66 التحريم
12

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ

تشریح

نیز عمران کی بیٹی مریم کو (مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو ہم نے اُس میں اپنی رُوح پھونک دی، اور اُنہوں نے اپنے پروردگار کی باتوں اور اُس کی کتاب کی تصدیق کی، اور وہ طاعت شعار لوگوں میں شامل تھیں

UP
X
<>