August 10, 2022

فہرست مضامین > قران كي حكايات >حضرت اسماعيل عليه السلام كا قصه

حضرت اسماعيل عليه السلام كا قصه

پارہ
سورۃ
آیت
X
1
2 البقرة
125-129

وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ

تشریح

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بیت اﷲ کو لوگوں کیلئے ایسی جگہ بنایا جس کی طرف وہ لوٹ لوٹ کر جائیں اور جو سراپا امن ہو۔ اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ : ’’ تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کیلئے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجالائیں ‘‘

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

تشریح

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ : ’’ اے میرے پروردگار! اس کو ایک پر امن شہر بنا دیجئے اور اس کے باشندوں میں سے جو اﷲ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔ ‘‘ اﷲ نے کہا : ’’اور جو کفر اختیا رکرے گا اس کو بھی میں کچھ عرصے کیلئے لطف اٹھا نے کا موقع دوں گا، (مگر) پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف کھینچ لے جاؤں گا۔ اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

تشریح

اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم بیت اﷲ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسماعیل بھی (ان کے ساتھ شریک تھے اور دونوں یہ کہتے جاتے تھے کہ :) ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرمالے ۔ بیشک تو اور صرف تو ہی ہر ایک کی سننے والا، ہر ایک کو جاننے ولا ہے

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

تشریح

اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرماں بردار بنالے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پید ا کر جو تیری پوری تابع دار ہو۔ اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے، اور ہماری توبہ قبول فرمالے ۔ بیشک تو اور صرف تو ہی معاف کر دینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

تشریح

اور ہمارے پروردگار ! اِ ن میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو، جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے ۔ بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل

1
2 البقرة
133

أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ

تشریح

کیا اس وقت تم خود موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟ ان سب نے کہا تھا کہ ہم اسی ایک خدا کی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے باپ دادوں ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا معبود ہے ۔ اور ہم صرف اسی کے فرماں بردار ہیں

7
6 الأنعام
86-90

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ 

تشریح

نیز اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو ہم نے دنیا جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی

وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 

تشریح

اور ان کے باپ دادوں ، ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو۔ ہم نے اِن سب کو منتخب کر کے راہِ راست تک پہنچا دیا تھا

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ 

تشریح

یہ اﷲ کی دی ہوئی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے راہِ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرنے لگتے تو ان کے سارے (نیک) اعمال اکارت ہو جاتے

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلاء فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُواْ بِهَا بِكَافِرِينَ 

تشریح

وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کیلئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ

تشریح

یہ لوگ (جن کا ذکر اُوپر ہوا) وہ تھے جن کو اﷲ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہٰذا (اے پیغمبر !) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اِس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دُنیا جہان کے سب لوگوں کیلئے ایک نصیحت ہے اور بس

16
19 مريم
54-55

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۡ اِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا

تشریح

اور اس کتاب میں اسمٰعیل کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ وعدے کے سچے تھے، اور رسول اور نبی تھے

وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا 

تشریح

اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے، اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے

17
21 الأنبياء
85

وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ 

تشریح

اور اسماعیل اور ادریس اور ذُوالکفل کو دیکھو ! یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے

23
37 الصافات
101-107

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ

تشریح

چنانچہ ہم نے اُنہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

تشریح

پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو اُنہوں نے کہا : ’’ بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہاہوں ، اب سوچ کر بتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ بیٹے نے کہا : ’’ اباجان ! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اِن شاء اﷲ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘

فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ

تشریح

چنانچہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکادیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا

وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ

تشریح

اور ہم نے اُنہیں آواز دی کہ : ’’ اے ابراہیم !

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

تشریح

تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں ۔‘‘

إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلاء الْمُبِينُ

تشریح

یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ

تشریح

اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اُس بچے کو بچالیا

23
38 ص
48

وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنْ الأَخْيَارِ

تشریح

اور اِسماعیل اور اَلیسع اور ذُوالکفل کو یاد کرو۔ اور یہ سب بہترین لوگوں میں سے تھے

UP
X
<>