March 25, 2019

فہرست مضامین > قران كي حكايات >حضرت داؤد اور سليمان عليهما السلام كا قصه

حضرت داؤد اور سليمان عليهما السلام كا قصه

پارہ
سورۃ
آیت
X
1
2 البقرة
102

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

تشریح

اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے ۔ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر ناز ل کی گئی تھی۔ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں کہ : ’’ ہم محض آزمائش کیلئے (بھیجے گئے) ہیں، لہٰذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیا ر نہ کرنا ۔‘‘ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں ۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اﷲ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کیلئے نقصان دہ تھیں، اور فائدہ مند نہ تھیں ۔ اور وہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں ۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا

2
2 البقرة
251

فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ

تشریح

چنانچہ انہوں نے اﷲ کے حکم سے ان (جالوت کے ساتھیوں ) کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور اﷲ نے اس کو سلطنت اور دانائی عطا کی، اور جو علم چاہا اس کو عطا فرمایا ۔ اگر اﷲ لوگوں کا ایک دوسرے کے زریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے

6
4 النساء
163

 إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإْسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

تشریح

 (اے پیغمبر !) ہم نے تمہارے پاس اسی طرح وحی بھیجی ہے جیسے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کے پاس بھیجی تھی، اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کے پاس، اور عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کے پاس بھی وحی بھیجی تھی، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی

6
5 المائدة
78

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ 

تشریح

بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابنِ مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گذر جایا کرتے تھے

7
6 الأنعام
84-90

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

تشریح

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) عطا کیا۔ (ان میں سے) ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی، اور نوح کو ہم نے پہلے ہی ہدایت دی تھی، اور اُن کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ 

تشریح

اور زکریا، یحیٰ، عیسیٰ اور اِلیاس کو (بھی ہدایت عطا فرمائی) ۔ یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ 

تشریح

نیز اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو ہم نے دنیا جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی

وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 

تشریح

اور ان کے باپ دادوں ، ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو۔ ہم نے اِن سب کو منتخب کر کے راہِ راست تک پہنچا دیا تھا

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ 

تشریح

یہ اﷲ کی دی ہوئی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے راہِ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرنے لگتے تو ان کے سارے (نیک) اعمال اکارت ہو جاتے

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلاء فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُواْ بِهَا بِكَافِرِينَ 

تشریح

وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کیلئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ

تشریح

یہ لوگ (جن کا ذکر اُوپر ہوا) وہ تھے جن کو اﷲ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہٰذا (اے پیغمبر !) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اِس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دُنیا جہان کے سب لوگوں کیلئے ایک نصیحت ہے اور بس

17
21 الأنبياء
78-82

وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ 

تشریح

اور داؤد اور سلیمان (کو بھی ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا) جب وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے کا فیصلہ کر رہے تھے، کیونکہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت اُس کھیت میں جا گھسی تھیں ، اور ان لوگوں کے بارے میں جو فیصلہ ہوا اُسے ہم خود دیکھ رہے تھے

فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلاًّ آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ 

تشریح

چنانچہ اس فیصلے کی سمجھ ہم نے سلیمان کو دے دی، اور (ویسے) ہم نے دونوں ہی کو حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو تابع دار بنادیا تھا کہ وہ پرندوں کو ساتھ لے کر تسبیح کریں ، اور یہ سارے کام کرنے والے ہم تھے

وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ

تشریح

اور ہم نے اُنہیں تمہارے فائدے کیلئے ایک جنگی لباس (یعنی ذرہ) بنانے کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تمہیں لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے بچائے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم شکر گذار ہو؟

وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِيْ بِاَمْرِهِ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ

تشریح

اور ہم نے تیز چلتی ہوئی ہوا کو سلیمان کے تابع کر دیا تھا جو اُن کے حکم سے اُس سر زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ۔ اور ہمیں ہر ہر بات کا پور پورا علم ہے

وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهُ وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ ۚ وَكُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ

تشریح

اور کچھ ایسے شریر جنات بھی ہم نے اُن کے تابع کر دیئے تھے جو اُن کی خاطر پانی میں غوطے لگاتے تھے، اور اس کے سوا اور بھی کام کرتے تھے۔ اور ان سب کی دیکھ بھال کرنے والے ہم تھے

19
27 النمل
15-44

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ

تشریح

اور ہم نے داود اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا : ’’ تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔‘‘

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ

تشریح

اور سلیمان کو داو‘د کی وراثت ملی، اور اُنہوں نے کہا : ’’ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، اور ہمیں ہر (ضرورت کی) چیز عطا کی گئی ہے۔ یقینا یہ (اﷲ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔‘‘

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ

تشریح

اور سلیمان کیلئے اُن کے سارے لشکر جمع کر دیئے گئے تھے جو جنات، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، چنانچہ اُنہیں قابو میں رکھا جاتا تھا

حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى وَادِي النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لا يَشْعُرُونَ

تشریح

یہاں تک کہ ایک دن جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : ’’ چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اُن کا لشکر تمہیں پیس ڈالے، اور اُنہیں پتہ بھی نہ چلے۔‘‘

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

تشریح

اُس کی بات پر سلیمان مسکر اکر ہنسے، اور کہنے لگے : ’’ میرے پروردگار ! مجھے اس بات کا پابند بنادیجئے کہ میں اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطافرمائی ہیں ، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجئے۔‘‘

وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ

تشریح

اور انہوں نے (ایک مرتبہ) پرندوں کی حاضری لی تو کہا : ’’ کیا بات ہے، مجھے ہد ہد نظر نہیں آرہا، کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے؟‘‘

لأعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

تشریح

میں اُسے سخت سزا دوں گا، یا اُسے ذبح کر ڈالوں گا، اِلّا یہ کہ وہ میرے سامنے کوئی واضح وجہ پیش کرے۔‘‘

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ 

تشریح

پھر ہد ہد نے زیادہ دیر نہیں لگائی، اور (آکر) کہا کہ : ’’ میں نے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جن کا آپ کو علم نہیں ہے، اور میں ملکِ سبأ سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں

إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ

تشریح

میں نے وہاں ایک عورت کو پایا جو اُن لوگوں پر بادشاہت کر رہی ہے، اور اُس کو ہر طرح کا سازوسامان دیا گیا ہے، اور اُس کا ایک شاندار تخت بھی ہے

وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ

تشریح

میں نے اُس عورت اور اُس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اﷲ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدے کرتے ہیں ، اور شیطان نے اُن کو یہ سجھا دیا ہے کہ اُن کے اعمال بہت اچھے ہیں ، چنانچہ اُس نے انہیں صحیح راستے سے روک رکھا ہے اور اس طرح وہ ہدایت سے اتنے دور ہیں

أَلاَّ يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ

تشریح

کہ اﷲ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کو چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکال لاتا ہے، اور تم جو کچھ چھپاؤ، اور جو کچھ ظاہر کرو، سب کو جانتا ہے

اللَّهُ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ 

تشریح

اﷲ تو وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، (اور) جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ ‘ ‘

قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ

تشریح

سلیمان نے کہا : ’’ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے، یا جھوٹ بولنے والوں میں تم بھی شامل ہوگئے ہو

اذْهَب بِّكِتَابِي هَذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ

تشریح

میرا یہ خط لے کر جاؤ، اور اُن کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں ۔‘‘

قَالَتْ يَا أَيُّهَا المَلأ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ

تشریح

(چنانچہ ہد ہد نے ایسا ہی کیا اور) ملکہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا : ’’ قوم کے سردارو ! میرے سامنے ایک باوقار خط ڈالا گیا ہے

إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تشریح

وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہے، اور وہ اﷲ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو رحمن و رحیم ہے

أَلاَّ تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

تشریح

(اُس میں لکھا ہے) کہ :’’ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، اور میرے پاس تابع دار بن کر چلے آؤ۔‘‘

قَالَتْ يَا أَيُّهَا المَلأ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّى تَشْهَدُونِ

تشریح

ملکہ نے کہا : ’’ قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے، اُس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلے کا حتمی فیصلہ اُس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔‘‘

قَالُوا نَحْنُ أُوْلُوا قُوَّةٍ وَأُولُوا بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالأَمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ

تشریح

انہوں نے کہا : ’’ ہم طاقت ور اور ڈٹ کر لڑنے والے لوگ ہیں ، آگے معاملہ آپ کے سپرد ہے، اب آپ دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں ۔‘‘

قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ

تشریح

ملکہ بولی : ’’ حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں گھس آتے ہیں تو اُسے خراب کر ڈالتے ہیں ، اور اُس کے باعزت باشندوں کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں ، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے

وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ

تشریح

اور میں ان کے پاس ایک تحفہ بھیجتی ہوں ، پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر واپس آتے ہیں؟‘‘

فَلَمَّا جَاء سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ

تشریح

چنانچہ جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو اُنہوں نے کہا : ’’ کیا تم مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ نے جو کچھ مجھے دیا ہے، وہ اُس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، البتہ تم ہی لوگ اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو

ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لاَّ قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ

تشریح

اُن کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ اب ہم اُن کے پاس ایسے لشکر لے کر پہنچیں گے جن کے مقابلے کی اُن میں تاب نہیں ہوگی، اور اُنہیں وہاں سے اس طرح نکالیں گے کہ وہ ذلیل ہوں گے، اور ماتحت بن کر رہیں گے۔‘‘

قَالَ يَا أَيُّهَا المَلأ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

تشریح

سلیمان نے کہا : ’’ اے اہلِ دربار ! تم میں سے کو ن ہے جو اُس عورت کا تخت ان کے تابع دار بن کر آنے سے پہلے ہی میرے پاس لے آئے؟‘‘

قَالَ عِفْريتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ

تشریح

ایک قوی ہیکل جن نے کہا : ’’ آپ اپنی جگہ سے اُٹھے بھی نہ ہوں گے کہ میں اُس سے پہلے ہی اُسے آپ کے پاس لے آؤں گا، اور یقین رکھئے کہ میں اس کام کی پوری طاقت رکھتا ہوں ، (اور) امانت دار بھی ہوں ۔‘‘

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ

تشریح

جس کے پاس کتا ب کا علم تھا، وہ بول اُٹھا : ’’میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اُسے آپ کے پاس لے آتا ہوں ۔‘‘ چنانچہ جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : ’’ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے، تو وہ اپنے ہی فائدے کیلئے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بے نیاز ہے، کریم ہے۔‘‘

قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لا يَهْتَدُونَ

تشریح

سلیمان نے (اپنے خدام سے) کہا کہ : ’’ اس ملکہ کے تخت کو اس کیلئے اجنبی بنادو، دیکھیں وہ اُسے پہچانتی ہے، یا وہ اُن لوگوں میں سے ہے جو حقیقت تک نہیں پہنچتے؟‘‘

فَلَمَّا جَاءتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ

تشریح

غرض جب وہ آئی تو اُس سے پوچھا گیا : ’’ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟‘‘ کہنے لگی : ’’ ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل وہی ہے۔ ہمیں تو اس سے پہلے ہی (آپ کی سچائی کا) علم عطاہوگیا تھا، اور ہم سر جھکا چکے تھے۔‘‘

وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَاكَانَتْ مِن قَوْمٍ كَافِرِينَ

تشریح

اور (اب تک) اُس کو (ایمان لانے سے) اس بات نے روک رکھا تھا کہ وہ اﷲ کے بجائے دوسروں کی عبادت کرتی تھی، اور ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی

قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

تشریح

اُس سے کہا گیا کہ : ’’ اس محل میں داخل ہو جاؤ،‘‘ اُس نے جو دیکھا تو یہ سمجھی کہ یہ پانی ہے، اس لئے اُس نے (پائینچے چڑھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں ۔ سلیمان نے کہا کہ : ’’ یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے۔‘‘ ملکہ بول اُٹھی : ’’ میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ میں نے (اب تک) اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اﷲ رَبّ العالمین کی فرماں برداری قبول کر لی ہے۔‘‘

22
34 سبإ
10-14

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلاً يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ

تشریح

اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے داود کو خاص اپنے پاس سے فضل عطا کیا تھا۔ ’’ اے پہاڑو ! تم بھی تسبیح میں ان کے ساتھ ہم آواز بن جاؤ، اور اے پرندو ! تم بھی۔‘‘ اور ہم نے اُن کیلئے لوہے کو نرم کر دیا تھا

أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

تشریح

کہ : ’’ پوری پوری زرہیں بناؤ، اور کڑیاں جوڑنے میں توازن سے کام لو، اور تم سب لوگ نیک عمل کرو۔ تم جو عمل بھی کرتے ہو، میں اُسے دیکھ رہا ہوں ۔‘‘

وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ

تشریح

اور سلیمان کیلئے ہم نے ہوا کو تابع بنادیا تھا۔ اُس کا صبح کا سفر بھی ایک مہینے کی مسافت کا ہوتا تھا، اور شام کا سفر بھی ایک مہینے کا۔ اور ہم نے اُن کیلئے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔ اور جنا ت میں سے کچھ وہ تھے جو اپنے پروردگار کے حکم سے اُن کے آگے کام کرتے تھے، اور (ہم نے اُن پر یہ بات واضح کرد ی تھی کہ) اُن میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے ہٹ کر ٹیڑھا راستہ اختیار کرے گا، اُسے ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے

يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاء مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ

تشریح

وہ جنات سلیمان کیلئے جو وہ چاہتے بنا دیا کرتے تھے ؛ اُونچی اُونچی عمارتیں ، تصویریں ، حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں ! : ’’ اے داود کے خاندان والو ! تم ایسے عمل کیا کرو جن سے شکر ظاہر ہو۔ اور میرے بندوں میں کم لوگ ہیں جو شکر گذار ہوں ۔‘‘

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلاَّ دَابَّةُ الأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ

تشریح

پھر جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو ان جنات کو اُن کی موت کا پتہ کسی اور نے نہیں ، بلکہ زمین کے کیڑے نے دیا جو اُن کے عصا کر کھا رہا تھا۔ چنانچہ جب وہ گر پڑے تو جنات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کا علم جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں مبتلا نہ رہتے

23
38 ص
17-26

اصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ

تشریح

(اے پیغمبر !) یہ جو کچھ کہتے ہیں ، اس پر صبر کرو اور داود (علیہ السلام) کو یاد کرو جو بڑے طاقتور تھے۔ وہ بیشک اﷲ سے بہت لو لگائے ہوئے تھے

إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإِشْرَاقِ

تشریح

ہم نے پہاڑوں کو اس کام پر لگا دیا تھا کہ وہ شام کے وقت اور سور ج کے نکلتے وقت اُن کے ساتھ تسبیح کیا کریں

وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ

تشریح

اور پرندوں کو بھی، جنہیں اِکٹھا کر لیا جاتا تھا۔ یہ سب اُن کے ساتھ مل کر اﷲ کا خوب ذکر کرتے تھے

وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ

تشریح

اور ہم نے اُن کی سلطنت کو اِستحکام بخشا تھا، اور اُنہیں دانائی اور فیصلہ کن گفتگو کا سلیقہ عطا کیا تھا

وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ

تشریح

اور کیا تمہیں اُن مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے، جب وہ دیوار پر چڑھ کر عبادت گاہ میں گھس آئے تھے؟

إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا لا تَخَفْ خَصْمَانِ بَغَى بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُم بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاء الصِّرَاطِ

تشریح

جب وہ داود کے پاس پہنچے تو داود اُن سے گھبراگئے۔ اُنہوں نے کہا : ’’ ڈریئے نہیں ، ہم ایک جھگڑے کے دو فریق ہیں ، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیجئے، اور زیادتی نہ کیجئے، اور ہمیں ٹھیک ٹھیک راستہ بتا دیجئے

إِنَّ هَذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ

تشریح

یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں ، اور میرے پاس ایک ہی دُنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دو، اور اس نے زورِ بیان سے مجھے دبالیا ہے۔‘‘

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنْ الْخُلَطَاء لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ

تشریح

داود نے کہا: ’’ اس نے اپنی دُنبیوں میں شامل کرنے کیلئے تمہاری دُنبی کا جو مطالبہ کیا ہے، اُس میں یقینا تم پر ظلم کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ جن کے درمیان شرکت ہوتی ہے، وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، سوائے اُن کے جو ایمان لائے ہیں ، اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، اور وہ بہت کم ہیں ۔‘‘ اور داود کو خیا ل آیا کہ ہم نے دراصل اُن کی آزمائش کی ہے، اس لئے اُنہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی، جھک کر سجدے میں گر گئے، اور اﷲ سے لو لگائی

فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ

تشریح

چنانچہ ہم نے اُس معاملے میں انہیں معافی دے دی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اُن کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے، اور بہترین ٹھکانا !

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ

تشریح

اے داود ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا یا ہے، لہٰذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اﷲ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ یقین رکھو کہ جو لوگ اﷲ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ، اُن کیلئے سخت عذاب ہے، کیونکہ اُنہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا تھا

23
38 ص
30-40

وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ

تشریح

اور ہم نے داود کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اﷲ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے

إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ

تشریح

(وہ ایک یادگار وقت تھا) جب اُن کے سامنے شام کے وقت اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ

تشریح

تو اُنہوں نے کہا : ’’ میں نے اس دولت کی محبت اپنے پروردگار کی یاد ہی کی وجہ سے اختیار کی ہے‘‘ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے

رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالأَعْنَاقِ

تشریح

(اس پر انہوں نے کہا :) ’’ ان کو میرے پاس واپس لے آؤ، چنانچہ وہ (اُن کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ

تشریح

اور یہ بھی واقعہ ہے کہ ہم نے سلیمان کی ایک آزمائش کی تھی، اور اُن کی کرسی پر ایک دھڑ لا کر ڈال دیا تھا، پھر اُنہوں نے (اﷲ سے) رُجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَّ يَنبَغِي لأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ

تشریح

کہنے لگے کہ : ’’ میرے پروردگار ! میری بخشش فرمادے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کیلئے مناسب نہ ہو۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاء حَيْثُ أَصَابَ 

تشریح

چنانچہ ہم نے ہوا کو اُن کے قابو میں کردیا جو اُن کے حکم سے جہاں وہ چاہتے، ہموار ہو کر چلا کرتی تھی

وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاء وَغَوَّاصٍ

تشریح

اور شریر جنات بھی اُن کے قابو میں دے دیئے تھے، جن میں ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شامل تھے

وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأَصْفَادِ

تشریح

اور کچھ وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ

تشریح

(اور اُن سے کہا تھا کہ :) ’’ یہ ہمار عطیہ ہے، اب تمہیں اختیار ہے کہ احسان کر کے کسی کو کچھ دو، یا اپنے پاس رکھو، تم پر کسی حساب کی ذمہ داری نہیں ہے۔‘‘

وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ

تشریح

اور حقیقت یہ ہے کہ اُن کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے، اور بہترین ٹھکانا !

UP
X
<>