March 25, 2019

فہرست مضامین > قران كي حكايات >حضرت آدم اور حوا عليهما السلام كا قصه اور ابليس كا ذكر

حضرت آدم اور حوا عليهما السلام كا قصه اور ابليس كا ذكر

پارہ
سورۃ
آیت
X
1
2 البقرة
30-39

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

تشریح

 اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں  وہ کہنے لگے۔ کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو اس میں فساد مچائے اور خون خرابہ کرے حالانکہ ہم آپ کی تسبیح اور حمد و تقدیس میں لگے ہوئے ہیں  اللہ نے کہا : میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے 

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

تشریح

اور آدم کو (اﷲ نے) سارے نام سکھادیے پھران کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور (ان سے) کہا: اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام توبتلاؤ

قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

تشریح

وہ بول اٹھے : آپ ہی کی ذات پاک ہے جوکچھ علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے ۔ حقیقت میں علم و حکمت کے مالک تو صرف آپ ہیں

قَالَ يَاآدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ

تشریح

اﷲ نے کہا:’’ آدم ! تم ان کو ان چیزوں کے نام بتادو‘‘ چنانچہ جب اس نے ان کے نام ان کو بتا دیے تو اﷲ نے (فرشتوں سے) کہا : ’’ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں ؟ اور جوکچھ تم ظاہر کرتے ہواورجو کچھ چھپاتے ہو مجھے اس سب کا علم ہے ‘‘

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

تشریح

اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ : آدم کی سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا اور متکبرانہ رویہ اختیار کیا اور کافرو ں میں شامل ہو گیا

وَقُلْنَا يَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

تشریح

اور ہم نے کہا: ’’ آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کے کھاؤ مگر اس درخت کے پاس مت جانا ورنہ تم ظالموں میں شمار ہوگے‘‘

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ

تشریح

پھر ہو ا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کووہاں سے ڈگمگادیا اور جس (عیش) میں وہ تھے اس سے انہیں نکا ل کر رہا اور ہم نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) کہا : ’’ اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے لئے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کر دیا گیا) ہے‘‘

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

تشریح

پھر آدم نے اپنے پروردگارسے (توبہ کے) کچھ الفاظ سیکھ لئے (جن کے ذریعے انہوں نے توبہ مانگی) چنانچہ اﷲ نے ان کی توبہ قبول کر لی ۔ بے شک وہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے

قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

تشریح

ہم نے کہا : ’’ اب تم سب یہاں سے اترجاؤ پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

تشریح

اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کوجھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘

1
2 البقرة
102

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

تشریح

اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے ۔ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر ناز ل کی گئی تھی۔ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں کہ : ’’ ہم محض آزمائش کیلئے (بھیجے گئے) ہیں، لہٰذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیا ر نہ کرنا ۔‘‘ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں ۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اﷲ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کیلئے نقصان دہ تھیں، اور فائدہ مند نہ تھیں ۔ اور وہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں ۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا

3
2 البقرة
268

الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

تشریح

شیطان تمہیں مفلسی سے ڈرا تا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اﷲ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے ۔ اﷲ بڑی وسعت والا، ہر بات جاننے والا ہے

2
2 البقرة
168-169

يَاأَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ

تشریح

اے لوگو! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو کہ وہ تمہارے لئے ایک کھلا دشمن ہے

إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

تشریح

وہ تو تم کو یہی حکم دے گا کہ تم بدی اور بے حیائی کے کام کرو اور اﷲ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کا تمہیں علم نہیں ہے

3
3 آل عمران
33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓي اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ

تشریح

اﷲ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کر چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی

5
4 النساء
120

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلاَّ غُرُورًا 

تشریح

وہ تو ان سے وعدے کرتا اور انہیں آرزوؤں میں مبتلا کرتا ہے، جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے، وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں

8
7 الأعراف
11-19

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ 

تشریح

اور ہم نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا کہ : ’’ آدم کو سجدہ کرو۔ ‘‘ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ 

تشریح

اﷲ نے کہا : ’’ جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا تو تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا ؟ ‘‘ وہ بولا : ’’ میں اُس سے بہتر ہوں ۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اور اُس کو مٹی سے پیدا کیا۔ ‘‘

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ

تشریح

اﷲ نے کہا : ’’ اچھا تو یہاں سے نیچے اُتر، کیونکہ تجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہاں تکبر کرے۔ اب نکل جا، یقینا تو ذلیلوں میں سے ہے۔ ‘‘

قَالَ أَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ 

تشریح

اُس نے کہا : ’’ مجھے اُس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دیدے جس دن لوگوں کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ ‘‘

قَالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظَرِينَ 

تشریح

اﷲ نے فرمایا : ’’ تجھے مہلت دے دی گئی۔‘‘

قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ

تشریح

کہنے لگا : ’’ اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اِس لئے میں (بھی) قسم کھاتا ہوں کہ اِن (انسانوں) کی گھات لگا کر تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ رہوں گا

ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ 

تشریح

پھر میں اِن پر (چاروں طرف سے) حملے کروں گا، ان کے سامنے سے بھی، اور ان کے پیچھے سے بھی، اور ان کے دائیں طرف سے بھی، اور ان کی بائیں طرف سے بھی۔ اور تو ان میں سے سے اکثر لوگوں کو شکر گذار نہی پائے گا۔ ‘‘

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْؤُومًا مَّدْحُورًا لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ 

تشریح

اﷲ نے کہا : ’’ نکل جا یہاں سے، ذلیل اور مردود ہو کر۔ اُن میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا، (وہ بھی تیرا ساتھی ہو گا) اور میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا

وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلاَ مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ 

تشریح

اور اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو، اور جہاں سے جو چیز چاہو، کھاؤ۔ البتہ اِس (خاص) درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ ‘‘

8
7 الأعراف
20-22

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ 

تشریح

پھر یہ ہوا کہ شیطان نے اُن دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ اُن کی شرم کی جگہیں جو اُن سے چھپائی گئی تھیں ، ایک دوسرے کے سامنے کھول دے۔ کہنے لگا کہ : ’’ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے کسی اوروجہ سے نہیں ، بلکہ صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی نہ حاصل ہوجائے۔ ‘‘

وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ 

تشریح

اور اُن کے سامنے وہ قسمیں کھاگیا کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں

فَدَلاَّهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ 

تشریح

اس طرح اُس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اُتار ہی لیا۔ چنانچہ جب دونوں نے اُس درخت کا مزہ چکھا تو اُن دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں ، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔ اور ان کے پروردگار نے اُنہیں آواز دی کہ : ’’ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟ ‘‘

8
7 الأعراف
27

يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاء لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ 

تشریح

اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! شیطان کو ایسا موقع ہر گز ہر گز نہ دینا کہ وہ تمہیں اسی طرح فتنے میں ڈال دے جیسے اُس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا، جبکہ اُن کا لباس اُن کے جسم سے اُتروالیا تھا، تاکہ اُن کو ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دِکھا دے۔ وہ اور اُس کا جتھہ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اُنہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ان شیطانوں کو ہم نے انہی کا دوست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے

9
7 الأعراف
189

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحاً لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ 

تشریح

اﷲ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اُسی سے اس کی بیوی بنائی، تاکہ وہ اُس کے پاس آکرتسکین حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو عورت نے حمل کا ایک ہلکا سا بوجھ اُٹھا لیا، جسے لے کر وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں (میاں بیوی) نے اﷲ سے دعا کی کہ : ’’ اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر اداکریں گے۔ ‘‘

10
8 الأنفال
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ فَلَمَّا تَرَاءتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لاَ تَرَوْنَ إِنِّيَ أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ 

تشریح

اور وہ وقت (بھی قابلِ ذکر ہے) جب شیطان نے ان (کافروں ) کو یہ سمجھایا تھا کہ ان کے اعمال بڑے خوشنما ہیں ، اور یہ کہا تھا کہ : ’’آج انسانوں میں کوئی نہیں ہے جو تم پر غالب آسکے، اور میں تمہارا محافظ ہوں ۔ ‘‘ پھر جب دونوں گروہ آمنے سامنے آئے تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹا، اور کہنے لگا : ’’ میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا، مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے، وہ تمہیں نظر نہیں آرہا۔ مجھے اﷲ سے ڈر لگ رہا ہے، اور اﷲ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ ‘‘

12
12 يوسف
5

قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ 

تشریح

اُنہوں نے کہا : ’’ بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے لئے کوئی سازش تیار کریں ، کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دُشمن ہے

12
12 يوسف
42

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ 

تشریح

اور ان دونوں میں سے جس کے بارے میں اُن کا گمان تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا، اُس سے یوسف نے کہا کہ : ’’ اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا۔ ‘‘ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اُس کو یہ بات بھلا دی کہ وہ اپنے آقا سے یوسف کا تذکرہ کرتا۔ چنانچہ وہ کئی برس قید خانے میں رہے

14
15 الحجر
17-18

وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ 

تشریح

اور محفوظ رکھا ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے.

إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ 

تشریح

البتہ جو کوئی چوری سے کچھ سننے کی کوشش کرے تو ایک روشن شعلہ اُس کا پیچھا کرتا ہے

14
15 الحجر
31-44

إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ 

تشریح

سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا

قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلاَّ تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ 

تشریح

اﷲ نے کہا : ’’ ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا؟‘‘

قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ 

تشریح

اُس نے کہا : ’’ میں ایسا (گرا ہوا) نہیں ہوں کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تونے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پید اکیا ہے۔‘‘

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ

تشریح

اﷲ نے کہا : ’’ اچھا تو یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو مردود ہوگیا ہے

وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ 

تشریح

اور تجھ پر قیامت کے دن تک پھٹکار پڑی رہے گی۔‘‘

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ 

تشریح

کہنے لگا : ’’ یا رَبّ ! پھر مجھے اُس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دیدے جب لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔‘‘

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ

تشریح

اﷲ نے فرمایا کہ : ’’ جا پھر تجھے مہلت (تو) دے دی گئی

إِلَى يَومِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ 

تشریح

(مگر) ایک ایسی میعاد کے دن تک جو ہمیں معلوم ہے۔‘‘

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِي لأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَلأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ 

تشریح

کہنے لگا : ’’ یا رَبّ ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لئے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ ان انسانوں کیلئے دنیا میں دِلکشی پیدا کروں گا، اور ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا

إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ 

تشریح

سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے اپنے لئے مخلص بنا لیا ہو۔‘‘

قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ 

تشریح

اﷲ نے فرمایا : ’’ یہ ہے وہ سیدھا راستہ جو مجھ تک پہنچتا ہے

إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ 

تشریح

یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں ، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا، سوائے اُن گمراہ لوگوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ 

تشریح

اور جہنم ایسے تمام لوگوں کا طے شدہ ٹھکانا ہے

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِّكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ 

تشریح

اُس کے سات دروازے ہیں ۔ ہر دروازے (میں داخلے) کیلئے اُن (دوزخیوں کا) ایک ایک گروہ بانٹ دیا گیا ہے

14
15 الحجر
28-31

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ 

تشریح

اور وہ وقت یا د کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : ’’ میں گارے کی ایک کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَ 

تشریح

لہٰذا جب میں اُس کو پوری طرح بنا لوں ، اور اُس میں اپنی روح پھونک دُوں تو تم سب اُس کے آگے سجدے میں گر جانا۔‘‘

فَسَجَدَ الْمَلآئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ 

تشریح

چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا

إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ 

تشریح

سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا

14
16 النحل
63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

تشریح

(اے پیغمبر !) اﷲ کی قسم ! تم سے پہلے جو اُمتیں گذری ہیں ، ہم نے اُن کے پاس پیغمبر بھیجے تھے، تو شیطان نے اُن کے اعمال کو خوب سنوارکر ان کے سامنے پیش کیا۔ چنانچہ وہی (شیطان) آج ان کا سر پرست بنا ہوا ہے، اور (اس کی وجہ سے) ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے

15
17 الإسراء
53

وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا

تشریح

میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دُشمن ہے

15
17 الإسراء
61-65

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إَلاَّ إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا 

تشریح

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔چنانچہ اُنہوں نے سجدہ کیا، لیکن اِبلیس نے نہیں کیا۔ اُس نے کہا کہ : ’’ کیامیں اُ س کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے؟‘‘

قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً 

تشریح

 کہنے لگا :’’ بھلا بتاؤ یہ ہے وہ مخلوق جسے تو نے میرے مقابلے میں عزت بخشی ہے ! اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو میں اس کی اولاد میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کے جبڑوں میں لگام ڈالوں گا۔‘‘

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا 

تشریح

اﷲ نے کہا : ’’ جا پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو جہنم ہی تم سب کی سزا ہوگی، مکمل اور بھرپور سزا

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا

تشریح

اور ان میں سے جس جس پر تیرا بس چلے، اُنہیں اپنی آواز سے بہکا لے، اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کی فوج چڑھا لا، اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا حصہ لگا لے، اور اُن سے خوب وعدے کر لے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان اُن سے جو وعدہ بھی کرتا ہے، وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتا

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا 

تشریح

یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں ، ان پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا، اور تیرا پروردگار (ان کی) رکھوالی کیلئے کافی ہے۔‘‘

15
18 الكهف
50-51

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاء مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلاً 

تشریح

اور وہ وقت یادکرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : ’’ آدم کے آگے سجدہ کرو۔‘‘ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اُس نے اپنے رَبّ کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اُسے اور اُس کی ذُرّیت کوا َپنا رکھوالا بناتے ہو، حالانکہ وہ سب تمہارے دُشمن ہیں؟ (اﷲ تعالیٰ کا) کتنا برامتبادل ہے جو ظالموں کو ملا ہے !

مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ ۠وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا 

تشریح

میں نے نہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت اُن کو حاضر کیا تھا، نہ خود اُن کو پیدا کرتے وقت، اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو دست و بازو بناؤں

16
20 طه
115-124

وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا

تشریح

اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک بات کی تاکید کی تھی، پھر اُن سے بھول ہو گئی، اور ہم نے اُن میں عزم نہیں پایا

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى 

تشریح

یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا، البتہ اِبلیس تھا جس نے انکار کیا

فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي

تشریح

چنانچہ ہم نے کہا کہ : ’’ اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دُشمن ہے، لہٰذا ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے، اور تم مشقت میں پڑ جاؤ

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرٰى

تشریح

یہاں تو تمہیں یہ فائدہ ہے کہ نہ تم بھوکے ہوگے، نہ ننگے

وَاَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَلَا تَضْحٰي

تشریح

اور نہ یہاں پیا سے رہوگے، نہ دُھوپ میں تپو گے۔‘‘

فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى

تشریح

پھر شیطان نے اُن کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ کہنے لگا : ’’ اے آدم ! کیا میں تمہیں ایک ایسا درخت بتاؤں جس سے جاودانی زندگی اور وہ بادشاہی حاصل ہوتی ہے جو کبھی پرانی نہیں پڑتی؟‘‘

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهُ فَغَوٰى

تشریح

چنانچہ ان دونوں نے اُس درخت میں سے کچھ کھا لیا جس سے اُن دونوں کے شرم کے مقامات اُن کے سامنے کھل گئے، اور وہ دونوں جنت کے پتوں کو اپنے اُوپر گانٹھنے لگے۔ اور (اس طرح) آدم نے اپنے رَبّ کا کہا ٹالا، اور بھٹک گئے

ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَى 

تشریح

پھر اُن کے رَبّ نے اُنہیں چن لیا، چنانچہ ان کی توبہ قبول فرمائی، اور انہیں ہدایت عطا فرمائی

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقَى 

تشریح

اﷲنے فرمایا : ’’ تم دونوں کے دونوں یہاں سے نیچے اُتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے، تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا، اور نہ کسی مشکل میں گرفتار ہوگا

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى 

تشریح

اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اُس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی، اور قیامت کے دن ہم اُسے اندھا کر کے اُٹھائیں گے

17
22 الحج
3-4

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّبِـعُ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍ 

تشریح

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اﷲ کے بارے میں بے جانے بوجھے جھگڑے کرتے ہیں ، اور اُ س سرکش شیطان کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں

كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَن تَوَلاَّهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ 

تشریح

جس کے مقدرمیں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جوکوئی اُسے دوست بنائے گا، تو وہ اُس کو گمراہ کرے گا، اور اُسے بھڑکتی دوزخ کے عذا ب کی طرف لے جائے گا

17
22 الحج
52

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلاَّ إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 

تشریح

اور (اے پیغمبر !) تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تو اس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اُس نے (اﷲ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے اُس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں ) کوئی رُکاوٹ ڈال دی، پھر جو رُکاوٹ شیطان ڈالتا ہے، اﷲ اُسے دور کر دیتا ہے، پھر اپنی آیتوں کو زیادہ مضبوط کر دیتا ہے، اور اﷲ بڑے علم کا، بڑی حکمت کا مالک ہے

18
24 النور
21

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَن يَشَاء وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 

تشریح

اے ایمان والو ! تم شیطان کے پیچھے نہ چلو، اور اگر کوئی شخص شیطان کے پیچھے چلے، تو شیطان تو ہمیشہ بے حیائی اور بدی کی تلقین کرے گا۔ اور اگر تم پر اﷲ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا، لیکن اﷲ جس کو چاہتا ہے، پاک صاف کر دیتا ہے، اور اﷲ ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے

19
25 الفرقان
29

لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءنِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلإِنسَانِ خَذُولاً

تشریح

میرے پاس نصیحت آچکی تھی، مگر اس (دوست) نے مجھے اُس سے بھٹکا دیا۔‘‘ اور شیطان تو ہے ہی ایسا کہ وقت پڑنے پر اِنسان کو بے کس چھوڑ جاتا ہے

19
26 الشعراء
210-212

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ

تشریح

اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اُترے

وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ

تشریح

نہ یہ قرآن اُن کے مطلب کا ہے، اورنہ وہ ایسا کر سکتے ہیں

إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ

تشریح

اُنہیں تو (وحی کے) سننے سے بھی روک دیا گیا ہے

19
26 الشعراء
221-223

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ

تشریح

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اُترتے ہیں؟

تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

تشریح

وہ ہر ایسے شخص پر اُترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو

يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ

تشریح

وہ سنی سنائی بات لاڈالتے ہیں ، اور اُن میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں

22
34 سبإ
20-21

وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلاَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ

تشریح

اور واقعی ان لوگوں کے بارے میں اِبلیس نے اپنا خیال درست پایا، چنانچہ یہ اُسی کے پیچھے چل پڑے، سوائے اُس گروہ کے جو مومن تھا

وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ

تشریح

اور اِبلیس کو ان پر کوئی تسلط نہیں تھا، البتہ ہم (نے اُس کو بہکانے کی صلاحیت اس لئے دی تھی کہ) ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون ہے جو آخرت پر ایمان لاتا ہے، اور کون ہے جو اس کے بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگراں ہے

22
35 فاطر
6

إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ

تشریح

یقین جانو کہ شیطان تمہارا دُشمن ہے، اس لئے اُس کو دُشمن ہی سمجھتے رہو۔ وہ تو اپنے ماننے والوں کو جو دعوت دیتا ہے، وہ اس لئے دیتا ہے تاکہ وہ دوزخ کے باسی بن جائیں

23
37 الصافات
7-10

وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ

تشریح

اور ہر شریر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے

لا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلإٍ الأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ

تشریح

وہ اُوپر کے جہان کی باتیں نہیں سن سکتے، اور ہر طرف سے اُن پر مار پڑتی ہے

دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ

تشریح

اُنہیں دھکے دیئے جاتے ہیں ، اور اُن کو (آخرت میں ) دائمی عذاب ہوگا

إِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ

تشریح

البتہ جو کوئی کچھ اُچک لے جائے تو ایک روشن شعلہ اُس کا پیچھا کرتا ہے

23
38 ص
71-74

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِن طِينٍ

تشریح

یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گارے سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

تشریح

چنانچہ جب میں اُسے پوری طرح بنادوں اور اُس میں اپنی رُوح پھونک دُوں تو تم اُس کے آگے سجدے میں گر جانا

فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ

تشریح

پھر ہوا یہ کہ سارے کے سارے فرشتوں نے تو سجدہ کیا

إِلاَّ إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنْ الْكَافِرِينَ

تشریح

البتہ اِبلیس نے نہ کیا، اُس نے تکبر سے کام لیا، اور کافروں میں شامل ہوگیا

24
41 فصلت
25

وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاء فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ

تشریح

اور ہم نے (دُنیا میں ) ان پر کچھ ساتھی مسلط کر دیئے تھے جنہوں نے ان کے آگے پیچھے کے سارے کاموں کو خوشنما بنا دیا تھا، چنانچہ جو دوسرے جنات اور انسان ان سے پہلے گذر چکے ہیں ، اُن کے ساتھ مل کر (عذاب کی) بات ان پر بھی سچی ہوئی۔ یقینا وہ سب خسارہ اُٹھانے والوں میں سے ہیں

35
43 الزخرف
36-37

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ 

تشریح

اور جو شخص خدائے رحمن کے ذکر سے اندھا بن جائے، ہم اُس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اُس کا ساتھی بن جاتا ہے

وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ

تشریح

ایسے شیاطین اُن کو راستے سے روکتے رہتے ہیں ، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں

26
47 محمد
25

إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ

تشریح

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ حق بات سے پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہیں ، باوجودیکہ ہدایت اُن کے سامنے خوب واضح ہو چکی تھی، اُنہیں شیطان نے پٹی پڑھائی ہے، اور اُنہیں دُور دراز کی اُمیدیں دِلائی ہیں

28
58 المجادلة
19

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ أُولَئِكَ فِي الْاَذَلِّيْنَ 

تشریح

ان پر شیطان نے پوری طرح قبضہ جماکر انہیں اﷲ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔ یہ شیطان کا گروہ ہے۔یاد رکھو شیطان کا گروہ ہی نامراد ہونے والا ہے

28
59 الحشر
16-17

كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ

تشریح

ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ : ’’ کافر ہو جا‘‘ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ : ’’ میں تجھ سے بَری ہوں ، میں اﷲ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَآ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا ۭ وَذٰلِكَ جَزٰؤُا الظّٰلِمِيْنَ

تشریح

چنانچہ ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی ظلم کرنے والوں کی سزا ہے

30
114 الناس
4-6

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ

تشریح

اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چھپ جاتا ہے

الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ

تشریح

جولوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے

مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ

تشریح

چاہے وہ جنا ت میں سے ہو، یا انسانوں میں سے۔ ‘‘

UP
X
<>